اَب سیا ست دانوں کی تنخواہیں کب کم کی جائیں گی؟؟؟۔
یوسف صدیقی۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پرُ اَمن سماجی تبدیلی کا خواب پاک آرمی نے کی شرمندہ تعبیر کر دیا ہے۔پاک آرمی نے
اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کر کے ثابت کر دیا کہ اب فوج پاکستان کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہے۔پاک فوج کے اس بڑے فیصلے نے ثابت کر دیا کہ پاک آرمی کی زیر ک قیادت پاکستانی عوام کی مشکلات کو سمجھتی ہے۔اور پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے ہمہ تن مصروف بہ عمل ہے۔پاک آرمی کے اس فیصلے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔اور اس سے پہلے پاک آرمی کے غدار افسروں کا کورٹ مارشل ہوا،اور پھر ان کو سزائیں بھی ہوئیں جو کہ اس بات کہ ثبوت ہے کہ پاک آرمی اب ہر معاملے میں دوسرے اداروں کے لیے قابل تقلید مثالیں قائم کر رہی ہے۔ایسے حالات میں جب پاکستان میں پر امن سماجی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے پاک آرمی نے ثابت کر دیا ہے کہ پرامن سماجی تبدیلی اپنے حصے کا دوسرے کو د ے کر ہی آ سکتی ہے۔اس وقت ایسے ایثار کی ضرورت ہے جس طرح کے ایثار کا ثبوت پاک آرمی نے دیا ہے۔اسی طرح دیگر ادارے اور اور افراد بالخصوص عوام بھی ثابت قدمی کے ساتھ کفایت شعاری کا مظاہر ہ کرے۔کیونکہ یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے۔۔اس وقت پاکستان انتہائی مشکل معاشی حالات سے گزر رہاہے۔لیکن اس کے باوجود سیاست دانوں کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں۔اس کے علاوہ ترقیاتی فنڈز سے جو کمیشن لیا جاتا ہے،ان سے اس کا حساب کتاب بھی کم ہی لیا جاتا ہے۔
اگر سیاست دانوں کی دولت کا اندازہ لگایا جائے تو یہ جرنیلوں سے زیادہ امیر ہیں۔ملاؤں کی دولت کا تو حساب ہی نہیں ہے۔پاکستان میں سیاست دانوں کی تنخواہیں کم کرنا اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔یہ لوگ اتنے امیر ہیں کہ ان کے ڈیفنس میں گھر ہیں اور ان کے بچے امریکہ لندن کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ان کی اولادوں کو گرم ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی کیونکہ ان ’سپوتوں‘ نے ہماری تقدیر سنبھالنی ہوتی ہے۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اس ملک میں ایسی لوٹ مار مچی ہوئی ہے کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیراہے۔ایسے اندھیرے میں سیاست دانوں کی تنخواہیں اور مراعات کیسے کم ہو سکتی ہیں۔شاید آپ لوگوں کو یاد ہو جب پیپلز پارٹی کی زرداری گیلانی حکومت جا رہی تھی۔تو ان لوگوں نے جاتے ہوئے قومی خزانے کو اچھا خاصہ ٹیکہ لگایا تھا۔اورکئی تاحیات مراعات منظور کیں تھیں۔اس چیز کا میڈیا میں بہت کم ذکر ہوا تھا۔شاید میڈیا کو بھی اس کا حصہ دے دیا گیا ہو۔بحرحال ضرورت اس بات کی ہے کہ اب سیاست دان بھی اپنی تنخواہیں کم کروائیں۔بصورت دیگر اس ملک میں صرف ایک ادارے کے منھ سے نوالہ چھین کر اس کی معاشی صورحال اچھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک سیاست دانوں نے اپنا پیٹ بھرنا بند نہیں کیا۔ایک زمانے میں مشہور ہو گیا تھا کہ پاکستان میں بائیس خاندانوں کی حکومت ہے۔
اگر عوام کے پاس پیسہ ہو بھی تو یہ کسی نہ کسی طرح انہی بائیس خاندانوں کومنتقل ہو جاتا ہے۔لیکن اب پتہ چل رہا ہے کہ یہ بائیس سو خاندان ہو چکے ہیں۔یہ لوگ ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس کے نام پر اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔اور ان کی اولادیں امریکہ اور لندن میں پڑ ھ رہی ہیں۔ایک چھوٹی سی مثال لے لیں۔یوسف رضا گیلانی پاکستان کا سنجیدہ سیاست دان ہے،جو ہر دور میں اقتدار کے مزے لوٹتا رہا ہے یہ آدمی پیر صاحب پگاڑا کا رشتہ دار ہے۔اور یوسف رضا گیلانی کی بیوی کا ماموں تصدق حسین جیلانی پاکستان کا چیف جسٹس رہاہے۔یہ تو ایکانتہائی ادنیٰ سی مثال تھی۔ان لوگوں نے پاکستان کا پیسہ لوٹ کر اتنی جائیدایں،بینک بیلنس اور اثاثے بنالیے ہیں کہ ان کے اثاثوں کے سامنے احرام ِمصر کی اونچائی،ایفل ٹاور کی رعنائی اور برج خلیفہ روشنائی بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ان کی گاڑیوں میں تیل نہیں غریبوں کا لہو جلتا ہے۔آج پاکستان دیوالیہ ہو رہاہے۔ملک میں قحط کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔لوگوں ایک روٹی کے ٹکرے کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔لوگوں کے پاس تن ڈھانپے کے لیے کپڑا،اور سر چھپانے کے لیے چھت تک نہیں ہے۔لیکن ان لوگوں کے اللے تللے جاری ہیں۔یہ لوگ سونے گھڑیاں،مہنگے پرفیوم،اعلیٰ شراب اور انتہائی نفیس ملبوسات کا استعمال کر رہے ہیں۔میں آج ان کو کہہ رہا ہوں کہ اے امراء پاکستان،اے اہلِ سیاست اپنے اخراجات کم کرو۔پاکستان کے عوام پر ترس کرو۔یہ نہ ہو کہ تمھاری بد اعمالی اور بے رحمی کی وجہ سے اللہ پاک کا عذاب آ جائے اور عوام تمہیں ایسے گھسیٹ کر گھر سے باہر لے آئیں جس طر ح قذافی کے ساتھ ہوا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں